کلکتہ،12؍دسمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا کے قافلے پر پتھرائو کے بعد مرکزی حکومت اور مغربی بنگال سرکار کے درمیان ٹکراؤ جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ ریاست کے لاء اینڈ آرڈر پر گورنر کی رپورٹ ملنے کے مرکزی وزارت داخلہ نے مغربی بنگال کے چیف سیکریٹری اور ڈی جی پی کو دہلی طلب کیا ہے جس کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ممتا بنرجی سرکارنے اپنے افسران کو دہلی نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مغربی بنگال حکوتم اسے ریاستی امور میں مرکز کی مداخلت قراردیتی ہے۔ واضح رہے کہ مغربی بنگال میں آئندہ چند مہینوں میں اسمبلی الیکشن ہونا ہےاور یہاں بی جے پی اس بات کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے کہ اگلی حکومت اس کی بنے۔ مرکز اور ریاست میں ٹکراؤ کو دیکھتے ہوئے مغربی بنگال میں صدر راج کے نفاذ کے اندیشے بھی ظاہر کئے جانےلگے ہیں ۔
مرکزی وزارت داخلہ کو ریاستی حکومت کا جواب: چیف سیکریٹری اور ڈی جی پی کو طلب کئے جانے پر مرکزی وزار ت داخلہ کے سیکریٹری اجے بھلا کو ریاستی چیف سیکریٹری الا پن بندو پادھیائے نے خط لکھ کر آگاہ کیا ہے کہ انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ14؍دسمبر کو طلب کی گئی میٹنگ میں ریاستی حکومت کے عہدیداران شریک نہیں ہوں گے ۔ واضح رہے کہ مغربی بنگال کے گورنر جگدیپ دھنکر کے ذریعہ مرکزی حکومت کو رپورٹ جانے کے بعد مرکزی وزارت داخلہ نے چیف سیکریٹری الاپن بندو پادھیائے اور ڈی جی پی وریندر کو دہلی 14؍ دسمبر کو طلب کیا ہے تاکہ ان سے ریاست میں امن و امان اور نظم وضبط کی صورت حال پر وضاحت طلب کی جا سکے۔ ماہرین کے مطابق مرکزی حکومت بی جےپی صدر جے پی نڈا کے قافلے پر حملے کے معاملے میں ممتا بنرجی حکومت کو گھیرنے کی تیاری کررہی ہے۔
ریاستی حکومت خود اقدامات کررہی ہے: بنگال چیف سیکریٹری: الاپن بندو پادھیائے نے مرکزی چیف سیکریٹری کے ذریعہ بھیجے گئے مکتوب کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے جواب میں 14؍ دسمبر کی میٹنگ میں شرکت سے معذوری ظاہر کرتے ہوئے لکھاہے کہ ریاستی حکومت اپنے طور پر اس معاملے میں اقدامات کررہی ہے۔ واضح رہے کہ جےپی نڈا کے قافلے پر حملے کے سلسلے میں جمعہ کو بڑی تعداد میں لوگوں کو حراست میں لیاگیاہے۔ بنگال کے چیف سیکریٹری نے ریاستی حکومت کی جانب سے کئےگئے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’جیسا کہ 14؍ دسمبر کومرکز کی جانب سے درخواست کی گئی تھی، ریاستی حکومت نے فی الحقیقت جمعرات کو سیکوریٹی یافتہ شخصیات کے تحفظ کیلئے غیر معمولی اقدامات کئے تھے۔‘‘ انہوں نے جے پی نڈا کے قافلے پر ہونے والے حملے کا حوالہ دیتےہوئے لکھا ہے کہ ’’زیڈ پلس سیکوریٹی یافتہ شخصیت کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا ہے اس کاہماری جانب سے جائزہ لیا جارہاہے۔‘‘ الاپن بندو پادھیائے نے نشاندہی کی کہ ریاستی حکومت نے جی پی نڈا کو بلیٹ پروف کار دی تھی۔
الاپن بندو پادھیائے نے اپنے خط میں میٹنگ میں شرکت کرنے سے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزی فورسیس کے انتظامات کے باوجود ریاستی حکومت نے بھی اپنی طور سے بھی نڈا کے قافلے کیلئےسیکورٹی انتظامات کئے تھے۔ عام طور پر سیکوریٹی اہلکار کو قافلے میں موجود چند گاڑیوں کی حفاظت کرنی ہوتی ہے جبکہ جے پی نڈا کے ساتھ بڑی تعداد گاڑیاں موجود تھیں ۔نڈا کے قافلے کے ساتھ گاڑیوں کی بڑی تعداد کا حوالہ دیتےہوئے اس کو صورتحال کے بگڑنے کی وجہ قراردیاہے۔اس کے علاوہ الاپن بندو پادھیائے نے کہا کہ اس پورے معاملے ۳؍الگ الگ مقدمات درج کئے گئے ہیں جن میں توڑ پھوڑ شامل ہے اور 7؍افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ۔
گورنر کی رپورٹ میں ریاست کی لاء اینڈ آرڈر پر تنقید: دوسری طر ف مرکزی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ گورنر نے جو رپورٹ بھیجی ہے اس میں ریاست کے ابتر لاء ایند آرڈر کا حوالہ دیاگیاہے۔ اس پر گفتگو کیلئے چیف سیکریٹری اور ڈی جی پی کو طلب کیاگیاہے۔‘‘اس بیچ وزیر اطلاعات و نشریات پرکاش جاوڈیکر نے مغربی بنگال میں بی جے پی کے قومی صدر جگت پرکاش نڈا اور بی جے پی قائدین کے قافلے پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی بنگال میں جمہوریت کا قتل ہورہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال کی ترنمول کانگریس کی حکومت اس حملے کی ذمہ دار ہے۔
وزیراعلیٰ کیخلاف گورنر کے جارحانہ تیور: مغربی بنگال میں نظم ونسق کےتعلق سے مرکز کو انتہائی منفی رپورٹ بھیجنے کے بعد گورنر جگدیپ دھنکر جمعہ کو وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کو متنبہ کیا کہ وہ آگ سے نہ کھیلیں ۔ انہوں نے وزیراعلیٰ کا ایک ویڈیو شیئر کیا ہے جس میں وہ جے پی نڈا کو مختلف ناموں سے پکاررہی ہیں ۔ اس کا حوالہ دیتے ہوئے گورنر نے ممتا بنرجی سےمعافی مانگنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ان کا رویہ مغربی بنگال کی تہذیب کے منافی ہے۔